والد: حضرت علی ابن ابی طالب (ع) ، والدہ: سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) ، دادا: رسول اللہ ﷺ۔
بیوی: شہزادی رباب، لیلیٰ، ام اسحاق
اولاد: امام زین العابدین (ع)، علی اکبر، سکینہ، فاطمہ صغریٰ، اور رقیہ (علیہم السلام)۔
آپ اہل بیت کے چشم و چراغ، رسول اللہ کے نواسے اور جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
حضرت حسین (ع) نے ظالم یزید کے سامنے بیعت کرنے سے انکار کیا۔ مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا تک کا سفر، 60 ہجری میں معاویہ کی وفات کے بعد حق و باطل کا فیصلہ۔
حضرت حسین (ع) نے اپنے والد علی (ع) کے ساتھ جنگ جمل، صفین، نہروان میں شرکت کی۔ کربلا میں 10 محرم 61ھ میں 72 ساتھیوں کے ساتھ ظالم لشکر سے مقابلہ کیا۔
آپ (ع) نے تنہا نہیں بلکہ اہل بیت و اصحاب کی قربانیاں دیں۔ فرزند علی اکبر، بھائی عباس (ع)، اصحاب مثل حبیب بن مظاہر۔
حضرت حسین (ع) کی شہادت نے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے دلوں میں محبت و غم کا چشمہ جاری کر دیا۔ ہر سال محرم و صفر میں عزاداری، مجالس، نوحہ خوانی۔
سنّی و شیعہ، تمام مکاتب فکر میں آپ کو انتہائی احترام دیا جاتا ہے۔ «حسین منی و انا من حسین»۔ آپ کا نام عدل و شجاعت کی علامت ہے۔
«إِنَّ الْحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الْهُدَى وَ سَفِينَةُ النَّجَاةِ»
(رسول اللہ ﷺ)
"ما رأیت إلا جمیلاً" (حضرت حسین (ع) کا قول)
(امام حسین (ع): جب زندگی قابلِ عیش نہ رہے تو عزت سے مرجاؤ)
(احمق کی صحبت سے بچو، وہ اپنے فعل کو آراستہ کرکے دکھاتا ہے)
قال رسول اللہ ﷺ : "حُسَیْنٌ مِنِّی وَ أَنَا مِنْ حُسَیْنٍ"
ترجمہ: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔
عراق، ایران، پاکستان، ہندوستان، افغانستان، لبنان، مصر، ترکی، یمن اور پوری دنیا میں کربلا کا پیغام زندہ ہے۔ ہر سال محرم میں لاکھوں سوگوار کربلا پہنچتے ہیں۔
یَـا لَیْتَـنَا كُنَّـا مَعَكَ فَنَفُـوزَ فَوْزاً عَظِيمَاً
ہم آپ کو مستند اسلامی معلومات اور گھر بیٹھے آن لائن کاروبار (dropshipping, freelancing, e‑commerce) کی تربیت دیتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ علماء اور کامیاب بزنس کوچز ہیں۔
+92 3371352528 | ceo@alkasim.pro
امام حسین ۴ھ (۶۲۶ء) میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے نواسے، حضرت علی و فاطمۃ الزہرا کے فرزند تھے۔ آپ کی شکل و صورت اور اخلاق میں نبی ﷺ کی واضح جھلک تھی۔
معاویہ کی وفات (۶۰ھ) کے بعد یزید نے بیعت طلب کی۔ امام نے انکار کیا، مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حر بن یزید کے لشکر نے راستے میں روک لیا اور ۲ محرم ۶۱ھ کو کربلا میں پڑاؤ ڈال دیا۔
۱۰ محرم (عاشورا) کو ۷۲ ساتھیوں کے ساتھ تین روزہ پیاس کے بعد ظالم لشکر سے لڑے۔ سب اصحاب و اہل بیت شہید ہوئے، امام نے ظہر تک جنگ کی اور پھر شہادت نوش فرمائی۔
امام حسین کی قربانی نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی راہ سکھائی۔ ہر سال محرم میں لاکھوں سوگوار، اہل سنت و شیعہ، آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ گاندھی و اقبال نے آپ کے پیغام کو سراہا۔
السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین (ع) ✤ السلام علی الحسین و علی علی بن الحسین و علی اولاد الحسین و علی اصحاب الحسین
© تمام معلومات معتبر مصادر سے ماخوذ ہیں۔