Alkasim · امام حسین (ع) | علم و عشقِ حسین

الإمام الحُسین ابن علی
علیہما السلام

سید الشہداء | زندگی جدوجہد اور پیغام

خاندان

والد: حضرت علی ابن ابی طالب (ع) ، والدہ: سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) ، دادا: رسول اللہ ﷺ۔
بیوی: شہزادی رباب، لیلیٰ، ام اسحاق
اولاد: امام زین العابدین (ع)، علی اکبر، سکینہ، فاطمہ صغریٰ، اور رقیہ (علیہم السلام)۔

آپ اہل بیت کے چشم و چراغ، رسول اللہ کے نواسے اور جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

جدوجہد و مصائب

حضرت حسین (ع) نے ظالم یزید کے سامنے بیعت کرنے سے انکار کیا۔ مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا تک کا سفر، 60 ہجری میں معاویہ کی وفات کے بعد حق و باطل کا فیصلہ۔

  • بیعت کا سختی سے انکار
  • عزیمت بہ سمت عراق
  • حر بن یزید ریاحی کا محاصرہ
  • وفا و استقامت کی اعلیٰ مثال

جنگی شرکت

حضرت حسین (ع) نے اپنے والد علی (ع) کے ساتھ جنگ جمل، صفین، نہروان میں شرکت کی۔ کربلا میں 10 محرم 61ھ میں 72 ساتھیوں کے ساتھ ظالم لشکر سے مقابلہ کیا۔

آپ (ع) نے تنہا نہیں بلکہ اہل بیت و اصحاب کی قربانیاں دیں۔ فرزند علی اکبر، بھائی عباس (ع)، اصحاب مثل حبیب بن مظاہر۔

کارنامے

  • قیام الی الموت فی سبیل اللہ
  • احیاء امر نبوی اور امت کی اصلاح
  • ظلم و جبر کے خلاف بے مثال مزاحمت
  • عزت و کرامت انسانی کا تحفظ
  • اسلام کو اموی تحریف سے بچانا

امت مسلمہ میں مقام

حضرت حسین (ع) کی شہادت نے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے دلوں میں محبت و غم کا چشمہ جاری کر دیا۔ ہر سال محرم و صفر میں عزاداری، مجالس، نوحہ خوانی۔

سنّی و شیعہ، تمام مکاتب فکر میں آپ کو انتہائی احترام دیا جاتا ہے۔ «حسین منی و انا من حسین»۔ آپ کا نام عدل و شجاعت کی علامت ہے۔

حدیث و اقوال

«إِنَّ الْحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الْهُدَى وَ سَفِينَةُ النَّجَاةِ»
(رسول اللہ ﷺ)

"ما رأیت إلا جمیلاً" (حضرت حسین (ع) کا قول)

✤ أقوالِ مبارکہ و احادیث ✤

«إذا لم یکن لدیکم حیاۃً تستحقون العیش فموتوا کراماً»

(امام حسین (ع): جب زندگی قابلِ عیش نہ رہے تو عزت سے مرجاؤ)

«لَا تَصْحَبِ الْمَائِقَ فَإِنَّهُ يَزِينُ لَكَ فِعْلَهُ وَيُحِبُّ أَنْ تَجُورَ مَعَهُ»

(احمق کی صحبت سے بچو، وہ اپنے فعل کو آراستہ کرکے دکھاتا ہے)

قال رسول اللہ ﷺ : "حُسَیْنٌ مِنِّی وَ أَنَا مِنْ حُسَیْنٍ"

ترجمہ: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

اسلامی دنیا میں ناموری

عراق، ایران، پاکستان، ہندوستان، افغانستان، لبنان، مصر، ترکی، یمن اور پوری دنیا میں کربلا کا پیغام زندہ ہے۔ ہر سال محرم میں لاکھوں سوگوار کربلا پہنچتے ہیں۔

یَـا لَیْتَـنَا كُنَّـا مَعَكَ فَنَفُـوزَ فَوْزاً عَظِيمَاً

Alkasim Institute · علم و کسبِ حلال

ہم آپ کو مستند اسلامی معلومات اور گھر بیٹھے آن لائن کاروبار (dropshipping, freelancing, e‑commerce) کی تربیت دیتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ علماء اور کامیاب بزنس کوچز ہیں۔

تفسیر · حدیث · فقہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اجازہ و سرٹیفکیٹ

+92 3371352528 | ceo@alkasim.pro

ویکیپیڈیا اسلوب میں دستاویزی مضامین · امام حسین (ع)

ابتدائی زندگی

امام حسین ۴ھ (۶۲۶ء) میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے نواسے، حضرت علی و فاطمۃ الزہرا کے فرزند تھے۔ آپ کی شکل و صورت اور اخلاق میں نبی ﷺ کی واضح جھلک تھی۔

کربلا کا سفر

معاویہ کی وفات (۶۰ھ) کے بعد یزید نے بیعت طلب کی۔ امام نے انکار کیا، مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حر بن یزید کے لشکر نے راستے میں روک لیا اور ۲ محرم ۶۱ھ کو کربلا میں پڑاؤ ڈال دیا۔

معرکۂ کربلا

۱۰ محرم (عاشورا) کو ۷۲ ساتھیوں کے ساتھ تین روزہ پیاس کے بعد ظالم لشکر سے لڑے۔ سب اصحاب و اہل بیت شہید ہوئے، امام نے ظہر تک جنگ کی اور پھر شہادت نوش فرمائی۔

عالمی اثرات

امام حسین کی قربانی نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی راہ سکھائی۔ ہر سال محرم میں لاکھوں سوگوار، اہل سنت و شیعہ، آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ گاندھی و اقبال نے آپ کے پیغام کو سراہا۔

🌿
🌹