يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ کوئی تجارت آپس کی رضا مندی سے ہو۔
O you who have believed, do not consume one another's wealth unjustly but only [in lawful] business by mutual consent.
Surah An-Nisa (4:29)
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔
Allah has permitted trade and has forbidden interest.
Surah Al-Baqarah (2:275)
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔
Woe to those who give less [than due], who, when they take a measure from people, take in full, but if they give by measure or by weight to them, they cause loss.
Surah Al-Mutaffifin (83:1-3)
الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
خریدار اور بیچنے والے کو اختیار ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں۔ اگر وہ سچ بولیں اور (معاہدے کی) وضاحت کر دیں تو ان کی تجارت میں برکت ہوگی، اور اگر وہ چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کی تجارت کی برکت ختم ہو جائے گی۔
The buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain unless they separate, and if they both speak the truth and disclose any defects, then they will be blessed in their transaction, but if they tell lies or conceal anything, then the blessings of their transaction will be eliminated.
Sahih al-Bukhari 2079
مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا
جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Whoever cheats us is not one of us.
Sahih Muslim 101
إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ، وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ
تجارت پیشہ لوگ گنہگار ہیں۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ نے تجارت کو حلال نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، لیکن وہ بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں، اور قسم کھاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔
The merchants will be raised on the Day of Resurrection as wicked people, except those who fear Allah, are honest and speak the truth.
Sunan al-Tirmidhi 1210